ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی اسمبلی میں 2500 کروڑ روپے کے گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی تجویزپاس

دہلی اسمبلی میں 2500 کروڑ روپے کے گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی تجویزپاس

Sat, 19 Dec 2020 16:48:57    S.O. News Service

نئی دہلی،19؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی کی قانون ساز اسمبلی نے بی جے پی کے زیر اقتدار میونسپل کارپوریشنوں میں مبینہ طور پر 2500 کروڑ روپے کے گھوٹالے کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی۔

عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے سوربھ بھاردواج نے اس معاملے پر تبادلہ خیال کرنا شروع کیا، جس کے بعد قرارداد منظور کرلی گئی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ بی جے پی کے زیر اقتدار کارپوریشنوں میں بدعنوانی کے دعوے ہر روز سامنے آ رہے ہیں۔ بدعنوانی کے معاملے میں نئے کونسلرز نے اپنے پرانے کونسلروں کے ریکارڈ بھی ختم کردئے۔بھاردواج نے کہاکہ میونسپل کارپوریشن دہلی کی بیٹی کی طرح ہے، جسے بی جے پی کے سپرد کیا گیا تھا، جس نے اس کے ساتھ ساس کی طرح سلوک کیا ۔ بی جے پی اسی طرح آپ سے 13000 کروڑ روپے کا مطالبہ کررہی ہے۔ 2017 کے میونسپل کارپوریشن انتخابات میں بی جے پی نے اپنے تمام کونسلر تبدیل کردئے تھے کیونکہ لوگ ان سے خوش نہیں تھے۔

آپ کے ایم ایل اے نے الزام لگایا کہ یہاں کرپشن ہزاروں کروڑ روپے کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کارپوریشنوں کی بلڈنگ ڈپارٹمنٹ بدعنوانی اور رشوت کے مطالبات کے لئے بدنام ہیں۔ عمارت کی تعمیر کے سلسلے میں بی جے پی کے ایک کونسلر کو 10 لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رامویر سنگھ بدھوری نے 2500 کروڑ کے فنڈ میں ہیرا پھیری کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا۔بحث کے دوران بی جے پی کے ایم ایل اے او پی شرما کو بولنے کی اجازت نہیں تھی تو انہوں نے ایوان کا بائیکاٹ کیا۔ بی جے پی کے ایم ایل اے نے اپنی سیٹوں پر پلے کارڈ دکھاتے ہوئے نگر یونٹوں کے 13000 کروڑ روپے واجبات کے ریلیز کا مطالبہ کیا۔

اس سے قبل ایوان میں آپ اراکین اسمبلی نے میونسپل کارپوریشنوں میں 2500 کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام لگاتے ہوئے ایک بڑا پوسٹر بھی لہرایا۔ اسمبلی کے اسپیکر رام نواس گوئل نے ایوان کی کارروائی کو 15 منٹ کے لئے ملتوی کردیا جب آپ کے اراکین اسمبلی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور کارروائی جاری رکھنے کی کوششوں کے بعد بھی بینرز دکھا کر نعرے بلند کررہے تھے۔


Share: